سورۃ الماعون
Surah Al-Ma'un 107
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِأَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ١
فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ٢
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ٣
فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ٤
الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ٥
الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ٦
وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ٧
سورۃ الماعون مکی ہے، اس میں سات آیتیں، اور ایک رکوع ہے ۔ تفسیر سورۃ الماعون نام : آخری آیت میں لفظ ﴿ الماعون آیا ہے، یہی اس سورت کا نام رکھ دیا گیا ہے اس کے دو نام اور ہیں، سورۃ الدین اور سورۃ الیتیم زمانہ نزول : عطاء اور جابر کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اور یہی ابن عباس (رض) کا بھی ایک قول ہے اور قتادہ اور دیگر علماء کے نزدیک مدنی ہے ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ﴿ أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ Ĭ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔
[١] دین کے چار معنی :۔ دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ کی کامل اور مکمل حاکمیت (٢) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی (٣) قانون جزا و سزا (٤) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت۔ کفار مکہ ان چاروں باتوں کے منکر تھے۔ وہ صرف ایک اللہ ہی کو الٰہ نہیں مانتے تھے بلکہ اپنی عبادت میں دوسرے معبودوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اللہ کے قانون جزا و سزا کے بھی منکر تھے اور آخرت کے بھی۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے لیکن تبصرہ کفار مکہ پر ہے کہ انکار آخرت نے ان میں کون سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں پیدا کردی تھیں
أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ
ترجمہ جوناگڑھی
کیا تو نے دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے (١)۔
تفسیر فہم القرآن
فہم القرآن: (آیت 1 سے 7) ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ ” اَلدِّیْنِ“ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ“ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے لوگوں سے سخت اور حریص ہوتا ہے وہ ایسی جگہ پر مال خرچ نہیں کرتا جہاں اسے کسی مفاد کے حصول کی توقع نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اس شخص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپ ایسے شخص کے کردار کو نہیں جانتے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور دوسرے کو مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین نہیں کرتا۔ یہاں مسکین کو خود کھانانہ کھلانے کی بجائے دوسرے کو ترغیب نہ دینے کی بات کی گئی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آدمی کو نہ صرف خود یتیم اور مسکین کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے بلکہ دوسروں کو بھی ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ جس معاشرے میں یتیم کو دھکے دیئے جائیں اور مسکین بھوکے پھریں وہ معاشرہ اعتقاداً یا عملاً قیامت کا منکر ہوتا ہے اور باہمی محبت سے محروم ہوجاتا ہے اس سے نفرتیں جنم لیتی ہیں، جس معاشرے میں نفرتیں ایک حد سے آگے بڑھ جائیں، وہ معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور بالآخر اس قوم کا وجود باقی نہیں رہتا۔ ایسے معاشرے اور قوم کودنیا میں بھی اپنے کیے کی سزا ملتی ہے اور آخرت میں بھی اس سے مسؤلیّت ہوگی۔ اعتقاداً یا عملاً قیامت کی تکذیب کرنے والے شخص کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں نماز پڑھنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا اگر عادتاً یا ماحول کی مجبوری سے اسے نماز پڑھنی پڑے تو وہ نماز سے بے خبر ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگ عادتاً یا لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھتے ہیں اس لیے ایسے لوگ اخلاقی اعتبار سے اس قدر گرے ہوئے ہوتے ہیں کہ اپنے عزیز و اقرباء اور اڑوس پڑوس میں برتنے کے لیے معمولی چیز بھی کسی کو نہیں دیتے۔ مثلاً ماچس، نمک، مرچ، استعمال کرنے کے لیے چھری، کلہاڑی، سائیکل اور انتہائی مجبوری کے وقت اپنی گاڑی پر کسی کو سوار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔” ساھون“ کے مفسرین نے چار مفہوم ذکر کیے ہیں۔ 1۔ نماز پڑھنا مگر اکثر اوقات نماز کے مقصد سے بے خبررہنا۔ 2۔ وقت پر نماز ادا کرنے کی بجائے بے وقت اٹھنا اور جلدی جلدی ٹھونگے مارنا۔ 3۔ پانچ نمازیں پڑھنے کی بجائے کچھ کو چھوڑ دینا۔ ٤۔ کلیتاً نماز کی ادائیگی سے غافل رہنا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (ﷺ) بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ اُدْعُھُمْ إِلٰی شَھَادَۃِ أَنْ لَّاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً فِیْ أَمْوَالِھِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ) (رواہ البخاری : کتاب الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا کہ یمن والوں کو دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو انہیں بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اموال میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں میں تقسیم کی جائے گی۔“ (عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہ (ﷺ) یَقُولُ لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِی یَشْبَعُ وَجَارُہُ جَائِعٌ إِلَی جَنْبِہِ) (رواہ البیھیقی : باب صاحِبِ الْمَالِ لاَ یَمْنَعُ الْمُضْطَرَّ فَضْلاً إِنْ کَانَ عِنْدَہُ) ” حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (ﷺ) کو فرماتے سنا۔ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس نے سیر ہو کر کھایا لیکن اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں بھوکا رہا۔“ (عَنْ سَہْلٍ (رض) قَالَ رَسُول اللّٰہِ (ﷺ) أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ ہَکَذَا وَأَشَار بالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْئًا) (رواہ البخاری : باب فضل من یعول یتیما) ” حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ نے شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان تھوڑا سافاصلہ رکھا۔“ ( عَنْ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیّ قَالَ قَالَ (ﷺ) إِذَا اشْتَرَی أَحَدُکُمْ لَحْمًا فَلْیُکْثِرْ مَرَقَتَہُ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَۃً وَہُوَ أَحَدُ اللَّحْمَیْنِ) (رواہ الترمذی : بَابُ مَا جَاءَ فِی إِکْثَارِ مَاءِ الْمَرَقَۃِ، ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ) ” حضرت عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی گوشت پکائے تو اس کا شوربا زیادہ بنائے کیونکہ اگر گوشت کم ہوجائے تو شوربا میسر ہوگا اور شوربا بھی گوشت کا حصہ ہے۔“ الدّین سے مراد : قانون (یوسف :76)، اطاعت (الزمر : 1تا3)، نظام حکومت (المومن :26)، دین (مذہب) (التوبہ :29) قیامت کے دن (الانفطار : 10تا 19، الفاتحہ :3) مزید تفصیل کے لیے ایک مرتبہ پھر البیّنہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل: 1۔ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا وہ اعتقاداً یا عملاً قیامت کو جھٹلاتا ہے۔ 2۔ ان نمازیوں کے لیے بربادی ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔ 3۔ وہ شخص بھی برباد ہوگا جو دکھلاوے کے لیے نماز ادا کرتا ہے۔ 4۔ اس شخص کے لیے ہلاکت ہوگی جو استعمال کے لیے معمولی چیزیں بھی ضرورت مند کو نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن: قیامت کو جھٹلانے والے کی سزا : 1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور آخرت کو جھٹلانے والوں کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ (الاعراف :147) 2۔ آخرت کے منکروں کی خواہشات کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ ( الانعام :151) 3۔ قیامت کے منکر حسرت وافسوس کا اظہار کریں گے۔ (الانعام :31) (الفرقان :11) 4۔ قیامت کے منکر ” اللہ“ کی رحمت سے مایوس ہوں گے۔ (العنکبوت :23) 5۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج :9) 6۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم :16)
سورت کے اہم اسباق
یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
غریبوں کی مدد کرنی چاہیے۔
نماز اخلاص کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔
ریاکاری بہت بڑا گناہ ہے۔
چھوٹی چھوٹی مدد بھی نیکی ہے۔
سورۃ الكوثر
(إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ)
شانِ نزول
جب نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے (خصوصاً حضرت قاسمؓ یا حضرت عبداللہؓ) کا انتقال ہوا تو کفارِ مکہ، خاص طور پر عاص بن وائل نے کہا کہ محمد ﷺ ابتر ہیں (یعنی ان کی نسل ختم ہوگئی، ان کے بعد ان کا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا)۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اصل میں آپ ﷺ کے دشمن ہی ابتر ہیں، اور اللہ نے آپ ﷺ کو الکوثر عطا فرمایا۔
تفسیر
1. إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
ترجمہ:
بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔
الکوثر کے معنی:
بہت زیادہ خیر۔
اور جنت میں ایک خاص نہر کا نام بھی ہے جو نبی ﷺ کو عطا کی گئی۔
2. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
ترجمہ:
پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
یعنی اللہ کی نعمت کے شکر میں خالص اللہ کے لیے عبادت کریں۔
3. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
ترجمہ:
بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔
یعنی جو آپ ﷺ سے دشمنی رکھتا ہے، اصل محروم وہی ہے۔
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ — مزید تفسیر
لفظی ترجمہ
إِنَّا = بے شک ہم نے
أَعْطَيْنَاكَ = آپ کو عطا کیا
الْكَوْثَرَ = بہت زیادہ خیر
یعنی:
“بے شک ہم نے آپ ﷺ کو بہت زیادہ بھلائی عطا فرمائی ہے۔”
الکوثر کے معنی
1. کثرتِ خیر
اکثر مفسرین کے نزدیک الکوثر کا اصل معنی ہے:
بہت زیادہ اور بے شمار خیر
اس میں شامل ہیں:
نبوت
قرآنِ کریم
علم
حکمت
امتِ مسلمہ
شفاعت
مقامِ محمود
حوضِ کوثر
جنت کی نہر
یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دنیا و آخرت کی بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔
2. جنت کی نہر
صحیح حدیث میں آیا ہے کہ الکوثر جنت کی ایک نہر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
هو نهرٌ أعطانيه ربي في الجنة
“وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا فرمائی ہے۔”
(صحیح بخاری)
اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، اور اس کے کنارے موتیوں کے ہیں۔
اس آیت میں تسلی
کفار نبی ﷺ کو ابتر کہتے تھے، یعنی بے نسل اور بے نام۔
اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ:
آپ محروم نہیں، بلکہ ہم نے آپ کو الکوثر عطا کیا ہے۔
یعنی آپ ﷺ کو اتنی عظیم نعمتیں دی گئی ہیں کہ دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا۔
آج پوری دنیا میں اذان، درود، نماز، خطبہ—ہر جگہ نبی ﷺ کا نام بلند ہے۔
سبق
اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنا چاہیے
دشمنوں کی باتوں سے مایوس نہیں ہونا چاہیے
اصل عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے
نبی ﷺ کی شان بہت بلند ہے
یہ ایک مختصر سورت ہے مگر اس میں نبی کریم ﷺ کی عظیم فضیلت بیان ہوئی ہے۔
سورہ اخلاص
شان نزول سنن ترمذی 3364
ابی بن کعب
ترجمہ : ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ اللَّہُ الصَّمَدُ } ۱؎ نازل فرمائی، اور صمد وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہواہو، - اس لیے (اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہوگی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کاکوئی وارث ہو گا، {وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ} (اور نہ اس کا کوئی کفو (ہمسر) ہے، راوی کہتے ہیں: کفو یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
فضیلت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ۔ بُخاری 5013
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی ( خود ابو سعید خدری ) نے ایک دوسرے صحابی ( قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ) اپنے ماں جائے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ قل ھو اللہ بار بار پڑھ رہے ہیں ۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی ( ابو سعید رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب
نہ ہوگا ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
جو سورہ اخلاص سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ
بُخاری 7375
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ عنہما کی پرورش میں تھیں۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا ۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے ۔ جو لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پرھنا عزیز رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دوں کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے ۔
"سورۃ اخلاص کی تلاوت جنّت میں جانے کا ذریعہ ہے"
هُرَيْرَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ قُلْتُ وَمَا وَجَبَتْ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنُ حُنَيْنٍ هُوَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ
بُخاری 2897
ترجمہ : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ آیا ، آپ نے وہاں ایک آدمی کو 'قل ہو اللہ أحد اللہ الصمد' پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' واجب ہوگئی'۔ میں نے کہا : کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ نے فرمایا:'جنت (واجب ہوگئی )'