حفظ حدیث

7/366- وعنْ أَبي سعيدٍ الخُدْرِيِّ ، عن النبيِّ ﷺ قَالَ: لا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلا يَأْكُلْ طعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ رواه أَبُو داود والترمذي بإِسْنَادٍ لا بأْسَ بِهِ.
8/367- وعن أَبي هريرة : أَنَّ النبيَّ ﷺ قَالَ: الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكمْ مَنْ يُخَالِل رواه أَبُو داود والترمذي بإِسنادٍ صحيحٍ، وَقالَ الترمذي: حديثٌ حسنٌ.
9/368- وعن أَبي موسى الأَشْعَرِيِّ : أَن النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.
وفي روايةٍ قال: قيل للنبيِّ ﷺ: الرَّجُلُ يُحِبُّ القَومَ وَلَمَّا يَلْحَق بِهِمْ، قَالَ: المَرْءُ مع مَن أحبَّ.

dost kaisa ho

 تین احادیث اور شیخ کی مکمل شرح کا اردو ترجمہ

### پہلی حدیث: مؤمن اور نیک آدمی کی صحبت

### عربی متن

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:

لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ.

رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ.

### ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’تم صرف مؤمن ہی کی صحبت اختیار کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی اور پرہیزگار آدمی ہی کھائے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔

### دوسری حدیث: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے

### عربی متن

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:

الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ.

رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ.

### ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے گہری دوستی کر رہا ہے۔‘‘

اسے امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن حدیث قرار دیا ہے۔

### تیسری حدیث: انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے

### عربی متن

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:

الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

### ترجمہ

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

### دوسری روایت

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ ﷺ:

الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.

ترجمہ:

ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا: ’’ایک آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے، لیکن ابھی وہ ان کے مرتبے اور مقام تک نہیں پہنچا۔‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

### شیخ کی مکمل شرح کا ترجمہ

### تمہیدی کلمات

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے، نیز آپ کی آل، صحابہ اور ان تمام لوگوں پر بھی جو آپ کی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں۔

اما بعد!

یہ تینوں احادیث بھی ان سابقہ احادیث کی طرح نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے، ان سے فائدہ حاصل کرنے اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

### پہلی حدیث کی شرح

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

’’تم صرف مؤمن کی صحبت اختیار کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی آدمی ہی کھائے۔‘‘

اہلِ علم کے نزدیک یہاں کھانے سے مراد وہ کھانا ہے جو دوستی اور باہمی میل جول کے تعلق سے کھلایا جاتا ہے۔

جہاں تک مہمان نوازی کے کھانے کا تعلق ہے، تو اس میں یہ شرط نہیں کہ مہمان متقی اور پرہیزگار ہی ہو۔

بلکہ لوگوں کے درمیان ملاقات، باہمی تعلقات اور دوستی مؤمنوں اور نیک لوگوں کے ساتھ ہونی چاہیے، جبکہ برے اور گناہگار لوگوں کی صحبت سے بچنا چاہیے۔

انسان کو چاہیے کہ اپنے میل جول اور دوستی میں نیک اور پرہیزگار لوگوں کو ترجیح دے۔

البتہ مہمانوں کا معاملہ الگ ہے۔ مہمان متقی بھی ہو سکتا ہے اور غیر متقی بھی۔ مہمانوں کا حق بہرحال ادا کیا جائے گا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ.

ترجمہ: ’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘

نبی کریم ﷺ مہمانوں کی عزت و تکریم فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کے پاس کافر بھی آتے تھے اور غیر کافر بھی، اور آپ ﷺ ان کی مہمان نوازی فرماتے تھے۔

### دوسری حدیث کی شرح

دوسری حدیث میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

’’آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔‘‘

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ گہرا دوست عموماً اپنے دوست کے دین اور اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔

لہٰذا مؤمن کو چاہیے کہ اپنے قریبی دوستوں اور محبوب لوگوں کے انتخاب میں غور کرے، اور ایسے لوگوں کو اپنا دوست بنائے جن کے اعمال اچھے ہوں اور جن کا کردار قابلِ تعریف ہو۔

جیسا کہ پہلے صحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نیک ساتھی کی مثال عطر بیچنے والے کی طرح ہے۔

عطر بیچنے والا یا تو تمہیں عطر تحفے میں دے دے گا، یا تم اس سے عطر خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو حاصل ہوگی۔

اور برے ساتھی کی مثال بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ وہ یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو پہنچے گی۔

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک ساتھی کی صحبت میں ہر حال میں کسی نہ کسی طرح فائدہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ برے ساتھی کی صحبت نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

### تیسری حدیث کی شرح

مؤمن کو چاہیے کہ اچھے اور نیک دوستوں کا انتخاب کرے، ان سے ملاقات کرے، ان سے فائدہ حاصل کرے اور ان کے ساتھ دینی باتوں کا مذاکرہ کرے، کیونکہ ان کی صحبت میں بہت سی بھلائیاں ہیں۔

اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کی صحبت اختیار کی تھی، تاکہ ان کے علم سے فائدہ حاصل کریں۔

اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.

’’انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے، لیکن ابھی ان کے مرتبے تک نہیں پہنچا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو اسلام میں اس فرمان سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں تھی۔‘‘

یعنی: ’’انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَأَرْجُو أَنْ يَحْشُرَنِي اللَّهُ مَعَ رَسُولِهِ.

ترجمہ: ’’بے شک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، اور امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے رسول کے ساتھ اٹھائے گا۔‘‘

اللہ کے رسول ﷺ پر درود و سلام ہو۔

### شیخ کی گفتگو کا اختتامی خلاصہ

مقصود یہ ہے کہ مؤمنوں اور نیک لوگوں سے محبت کرنا اور ان کی صحبت اختیار کرنا ان اسباب میں سے ہے جن کی وجہ سے قیامت کے دن انسان ان کے ساتھ اٹھایا جا سکتا ہے، اور جنت اور سعادت حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے برعکس، برے اور گناہگار لوگوں کی صحبت نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اور انسان دنیا و آخرت میں ان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

معلم

۔ ننہا خالد محمود کے باغ میں داخل ہوا اور اس نے کچھ ایسے پھول توڑ لیے جو ابھی کھلے نہیں تھے 
دَخَلَ خَالِدٌ الصَّغِيرُ بُسْتَانَ مَحْمُودٍ، وَقَطَفَ بَعْضَ الْأَزْهَارِ الَّتِي لَمْ تَتَفَتَّحْ بَعْدُ
2۔ محمود نے اسے اس بات سے منع کیا اور پھر اس نے اس کے گلاب کا ایک ایسا کھلا ہوا پھول توڑ دیا جو بہت خوش رنگ تھا
 مَنَعَهُ مَحْمُودٌ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ قَطَفَ زَهْرَةً مِنْ وَرْدِهِ مُتَفَتِّحَةً جِدًّا، كَانَتْ زَاهِيَةَ اللَّوْنِ
3۔ میرا دوست ایک ایسے گاؤں میں رہتا ہے جس کے باشندے تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں
يَسْكُنُ صَدِيقِي فِي قَرْيَةٍ سُكَّانُهَا مُتَعَلِّمُونَ وَمُهَذَّبُونَ
4. گزشتہ شب ہم نے ایک جلسے میں ایسے مقرر کو دیکھا جو اپنی تقریر سے لوگوں کے دلوں کو مسحور کر رہا تھا
رَأَيْنَا فِي الْمَجْلِسِ لَيْلَةَ أَمْسِ خَطِيبًا يَسْحَرُ قُلُوبَ النَّاسِ بِخُطْبَتِهِ.
5. پولیس والوں نے ایک ایسے چور کو گرفتار کیا جو نقب زنی کی کوشش میں لگا ہوا تھا 
أَلْقَى الشُّرْطِيُّونَ الْقَبْضَ عَلَى لِصٍّ كَانَ يُحَاوِلُ السَّرِقَةَ بِالنَّقْبِ.
6۔ ممبئی سے جب ہم واپس ہوئے تو ایک ایسی گاڑی پر سوار ہوئے جو فی گھنٹے 50 میل کی گرفتار سے چل رہی تھی 
لَمَّا رَجَعْنَا مِنْ مُمبَايَ رَكِبْنَا سَيَّارَةً كَانَتْ تَسِيرُ بِسُرْعَةِ خَمْسِينَ مِيلًا فِي السَّاعَةِ.
7۔ ممبئی اسٹیشن پر ہم نے ایک ایسی گاڑی دیکھی جو جدید طرز پر بنائی گئی ہے
رَأَيْنَا فِي مَحَطَّةِ مُمبَايَ سَيَّارَةً صُنِعَتْ عَلَى طِرَازٍ جدید

8۔ مخترقین نے اب ایک ایسے راکٹ ایجاد کر دیے کہ جن کے ذریعے چاند تک پہنچنا اسان ہو گیا 
اِخْتَرَعَ الْمُخْتَرِعُونَ الآنَ صَوَارِيخَ يُمْكِنُ بِوَاسِطَتِهَا الْوُصُولُ إِلَى الْقَمَرِ بِسُهُولَةٍ.

9۔ کل رات زور کی ایک ایسی اندھی چلی جس نے بھاری بھاری اور بڑے سے بڑے درختوں جڑسے اکھاڑ دیا
هَبَّتْ لَيْلَةَ أَمْسِ عَاصِفَةٌ شَدِيدَةٌ اقْتَلَعَتْ أَكْبَرَ الْأَشْجَارِ وَأَثْقَلَهَا مِنْ جُذُورِهَا

،لوگوں کو معاف کرنا

،لوگوں کو معاف کرنا بہت بڑی اسلامی صفت ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے

1. قرآن: معاف کرنے والوں کے لیے اللہ کی مغفرت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
(النور: 22)



ترجمہ:
انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

سبق:
ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری غلطیاں معاف کرے، تو ہمیں بھی اللہ کے بندوں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔


---

2. غصہ پینے اور معاف کرنے والوں کی فضیلت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(آل عمران: 134)



ترجمہ:
جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

یعنی حقیقی طاقت یہ نہیں کہ انسان غصے میں دوسرے کو نقصان پہنچائے، بلکہ طاقت یہ ہے کہ غصہ آنے کے باوجود معاف کر دے۔


---

3. نبی ﷺ نے معافی کو عزت کا سبب بتایا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(صحیح مسلم: 2588)



ترجمہ:
اللہ کسی بندے کو معاف کرنے کی وجہ سے عزت ہی میں اضافہ عطا فرماتا ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے معاف کر دیا تو میری عزت کم ہو جائے گی، لیکن نبی ﷺ نے بتایا کہ معافی انسان کی عزت بڑھاتی ہے۔


---

4. ابو بکرؓ کا عظیم واقعہ

حضرت عائشہؓ پر منافقین نے بہتان لگایا تو حضرت ابو بکرؓ کے ایک رشتہ دار مِسطحؓ بھی اس بات میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابو بکرؓ ان کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں مِسطح کی مدد نہیں کروں گا۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ... وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا
أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
(النور: 22)



جب حضرت ابو بکرؓ نے یہ آیت سنی تو فرمایا:

> بَلَى وَاللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي



"کیوں نہیں! اللہ کی قسم، میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرمائے۔"

پھر انہوں نے مِسطحؓ کی مدد دوبارہ شروع کر دی۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

اس واقعے کا بڑا سبق

جس شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہو، اسے معاف کرنا مشکل ہے۔ لیکن حضرت ابو بکرؓ نے اپنے دل سے کہا:

"اگر میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کرے، تو مجھے بھی اللہ کے بندے کو معاف کرنا چاہیے۔"


---

5. فتح مکہ کا عظیم منظر

رسول اللہ ﷺ کو مکہ والوں نے تکلیفیں دیں، آپ ﷺ کے صحابہؓ کو ستایا، انہیں اپنے گھروں اور وطن سے نکلنے پر مجبور کیا، جنگیں کیں، لیکن جب فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔

یہ انتقام کی طاقت نہیں بلکہ معافی کی عظمت تھی۔


---

6. ایک اہم حدیث: اصل پہلوان کون؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)



ترجمہ:
طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔


---

بیان کا خوبصورت اختتام

ہم سب چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری خطائیں معاف کرے، ہماری کوتاہیوں سے درگزر کرے اور قیامت کے دن ہمیں بخش دے۔

تو آج سے ایک عادت بنائیں:

جس نے دل دکھایا، اسے معاف کریں۔
جس نے غلطی کی، اسے معاف کریں۔
جس نے آپ کے خلاف بات کی، ممکن ہو تو درگزر کریں۔

کیونکہ:

> أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ



"کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟"

اور یاد رکھیں: معاف کرنا ظلم کو صحیح قرار دینا نہیں ہے۔ اگر کسی کا حق مارا گیا ہو تو حق واپس لینا جائز ہے؛ لیکن ذاتی بدلہ چھوڑ دینا اور معاف کر دینا بہت بڑی فضیلت ہے۔

حدیث

                          حدیث 1
سوال 1: نیت کا مطلب کیا ہے؟ جواب: کسی عمل کو اللہ کی رضا کے لیے کرنے کا ارادہ۔
سوال 2: کیا اچھا عمل بغیر اخلاص کے قبول ہوتا ہے؟ جواب: نہیں، اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھتے ہیں۔
سوال 3: اگر دو افراد ایک ہی عمل کریں لیکن نیت مختلف ہو تو کیا دونوں کا اجر برابر ہوگا؟ جواب: نہیں، اجر نیت کے مطابق ہوگا۔
سوال 4: اس حدیث کا مرکزی پیغام کیا ہے؟ جواب: ہر عمل کی قبولیت اور اجر نیت پر موقوف ہے۔
سوال 5: اس حدیث سے ہمیں اپنی زندگی میں کیا سبق ملتا ہے؟ جواب: ہر نیک عمل سے پہلے اپنی نیت خالص اللہ کے لیے کرنی چاہیے۔
مختصر زبانی سوالات
اعمال کس پر موقوف ہیں؟ جواب: نیتوں پر۔
ہجرت کی مثال کیوں دی گئی؟ جواب: نیت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے۔
اخلاص کسے کہتے ہیں؟ جواب: صرف اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا۔
اس حدیث کا پہلا لفظ کیا ہے؟ جواب: إِنَّمَا
اس حدیث کا مشہور نام کیا ہے؟ جواب: حدیثِ نیت (إنما الأعمال بالنيات)۔


                         حدیث 2

حدیث نمبر 2 (حدیثِ جبرائیل) سوال و جواب

سوال 1: اس حدیث کے راوی کون ہیں؟
 جواب: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔

سوال 2: ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس کون آئے؟ 
جواب: حضرت جبرائیل علیہ السلام۔

سوال 3: حضرت جبرائیلؑ کس شکل میں آئے؟
 جواب: ایک اجنبی آدمی کی شکل میں۔

سوال 4: ان کے کپڑوں کا رنگ کیسا تھا؟ 
جواب: بہت سفید۔

سوال 5: ان کے بال کیسے تھے؟ 
جواب: بہت سیاہ۔

سوال 6: حضرت جبرائیلؑ نے سب سے پہلے کس چیز کے بارے میں سوال کیا؟ 
جواب: اسلام کے بارے میں۔

سوال 7: اسلام کے کتنے ارکان اس حدیث میں بیان ہوئے؟ جواب: پانچ۔

سوال 8: اسلام کے پانچ ارکان کون سے ہیں؟ 
جواب: کلمہ، نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزے، استطاعت ہونے پر حج۔

سوال 9: اس کے بعد حضرت جبرائیلؑ نے کس چیز کے بارے میں پوچھا؟ 
جواب: ایمان کے بارے میں۔

سوال 10: ایمان کے ارکان کتنے ہیں؟ 
جواب: چھ۔

سوال 11: ایمان کے چھ ارکان کون سے ہیں؟ 
جواب: اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر (اچھی اور بری) پر ایمان۔

سوال 12: پھر حضرت جبرائیلؑ نے کس چیز کے بارے میں سوال کیا؟
 جواب: احسان کے بارے میں۔

سوال 13: احسان کیا ہے؟
 جواب: اللہ کی عبادت اس طرح کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت نہ ہو تو یہ یقین رکھنا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

سوال 14: قیامت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟ جواب: پوچھا گیا شخص پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔

سوال 15: قیامت کی دو نشانیاں کون سی بیان ہوئیں؟ جواب: لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی، اور ننگے پاؤں، ننگے بدن چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔

سوال 16: آخر میں رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ کون تھے؟ جواب: حضرت جبرائیل علیہ السلام۔

سوال 17: حضرت جبرائیلؑ کیوں آئے تھے؟ جواب: لوگوں کو ان کا دین سکھانے کے لیے۔

فہمِ حدیث کے سوالات

سوال 18: اس حدیث میں دین کے کتنے بنیادی درجے بیان ہوئے ہیں؟ جواب: تین: اسلام، ایمان اور احسان۔

سوال 19: اس حدیث کا مرکزی مضمون کیا ہے؟ جواب: دینِ اسلام کے بنیادی عقائد، اعمال اور احسان کی تعلیم۔

سوال 20: اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ جواب: دین کو صحیح طریقے سے سیکھنا، اس پر عمل کرنا اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا۔

یہ سوالات مدرسہ کے امتحان، زبانی سبق اور دہرائی کے لیے نہایت مفید ہیں۔
          حدیث نمبر 4 — سوال و جواب
سوال 1: یہ حدیث کس صحابی سے مروی ہے؟
جواب: حضرت ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
سوال 2: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث کس سے روایت کی؟
جواب: رسول اللہ ﷺ سے۔
سوال 3: انسان کی پیدائش کے ابتدائی مرحلے کتنے دن کے ہوتے ہیں؟
جواب: چالیس دن تک نطفہ کی حالت میں رہتا ہے۔
سوال 4: چالیس دن کے بعد کیا مرحلہ آتا ہے؟
جواب: پھر وہ علقہ کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر مضغہ کی شکل اختیار کرتا ہے۔
سوال 5: فرشتہ کب بھیجا جاتا ہے؟
جواب: جب انسان کی تخلیق کے ابتدائی مراحل مکمل ہوتے ہیں، تو فرشتہ بھیجا جاتا ہے۔
سوال 6: فرشتہ کتنی چیزیں لکھتا ہے؟
جواب: چار چیزیں لکھتا ہے۔
سوال 7: وہ چار چیزیں کون سی ہیں؟
جواب:
انسان کا رزق
اس کی عمر
اس کا عمل
وہ سعید ہوگا یا شقی
سوال 8: سعید سے کیا مراد ہے؟
جواب: نیک بخت اور خوش نصیب۔
سوال 9: شقی سے کیا مراد ہے؟
جواب: بدبخت اور بد نصیب۔
سوال 10: حدیث میں جنت والوں کے عمل کے بارے میں کیا فرمایا گیا ہے؟
جواب: انسان بظاہر جنت والوں کے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جنت کے درمیان اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر تقدیر کے مطابق اس کا خاتمہ مختلف ہو سکتا ہے۔
سوال 11: اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، نیک اعمال کرتے رہنا اور اپنے خاتمے کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیے۔
سوال 12: اس حدیث میں کس اہم عقیدے کا بیان ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر پر ایمان کا بیان ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری و صحیح مسلم۔

ઝુલહિજ્જહ કે ઇબ્તેદાઈ દસ દિનોં કી અઝમત..!!

 ઝુલહિજ્જહ કે ઇબ્તેદાઈ દસ દિનોં કી અઝમત..!!


ઇમામ ઇબ્નુલ જૌઝી રહિમહુલ્લાહ ફરમાતે હૈં:


“જાન લો, અલ્લાહ તુમ પર રહમ ફરમાએ! તુમ્હારે યે દસ દિન આમ દસ દિનોં જેસે નહીં હૈં, બલ્કે ઇન મેં દસ અઝીમ ફઝીલતેં જમા હૈં:


❶ અલ્લાહ અઝ્ઝ વ જલ્લ ને ઇન દિનોં કી કસમ ખાઈ હૈ, ચુનાંચે ફરમાયા:

﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾

“ઔર દસ રાતોં કી કસમ।”


ઔર જબ અઝમત વાલા રબ કિસી ચીઝ કી કસમ ખાયે તો યે ઉસ ચીઝ કી અઝમત કી દલીલ હોતી હૈ।


❷ અલ્લાહ તઆલા ને ઇન્હેં “અય્યામે માલૂમાત” કરાર દિયા હૈ, ફરમાયા:

﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾

“ઔર તાકે વહ મુકર્રરા દિનોં મેં અલ્લાહ કા નામ ઝિક્ર કરેં।”


હઝરત ઇબ્ને અબ્બાસ રઝિયલ્લાહુ અન્હુમા ફરમાતે હૈં:

“ઇસ સે મુરાદ ઝુલહિજ્જહ કે દસ દિન હૈં।”


❸ રસૂલુલ્લાહ ﷺ ને ગવાહી દી હૈ કે યે દુનિયા કે સબ સે અફઝલ દિન હૈં।


❹ નબી ﷺ ને ઇન દિનોં મેં નેક આઅમાલ કરને કી તરગીબ દી હૈ।


❺ આપ ﷺ ને ઇન દિનોં મેં કસરત સે તસ્બીહ, તહમીદ ઔર તહલીલ કા હુકમ દિયા હૈ।


❻ ઇન દિનોં મેં યૌમે તરવિયા (આઠ ઝુલહિજ્જહ) આતા હૈ।


❼ ઇનહી દિનોં મેં યૌમે અરફા આતા હૈ, ઔર ઉસ દિન કા રોજા દો સાલ કે ગુનાહોં કા કફ્ફારા બનતા હૈ।


❽ ઇનહી દિનોં મેં મુઝદલિફા કી રાત યાની “લૈલતુલ જમઅ” આતી હૈ।


❾ ઇન દિનોં મેં હજ અદા કિયા જાતાં હૈ, જો ઇસ્લામ કે પાંચ અર્કાન મેં સે એક અઝીમ રુકન હૈ।


❿ ઇનહી દિનોં મેં કુરબાની અદા કી જાતી હૈ, જો મિલ્લતે ઇબ્રાહીમી ઔર શરીઅતે મોહમ્મદિયા કી એક અઝીમ નિશાની હૈ।”


📚 અત્તબ્સિરા લિબ્નિલ જૌઝી: ૨/૧૨૭


ઇબ્ને મંઝૂર સનાબલી