Showing posts with label بخشش الہی مگر کیسے. Show all posts
Showing posts with label بخشش الہی مگر کیسے. Show all posts

،لوگوں کو معاف کرنا

،لوگوں کو معاف کرنا بہت بڑی اسلامی صفت ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے

1. قرآن: معاف کرنے والوں کے لیے اللہ کی مغفرت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
(النور: 22)



ترجمہ:
انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

سبق:
ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری غلطیاں معاف کرے، تو ہمیں بھی اللہ کے بندوں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔


---

2. غصہ پینے اور معاف کرنے والوں کی فضیلت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
(آل عمران: 134)



ترجمہ:
جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

یعنی حقیقی طاقت یہ نہیں کہ انسان غصے میں دوسرے کو نقصان پہنچائے، بلکہ طاقت یہ ہے کہ غصہ آنے کے باوجود معاف کر دے۔


---

3. نبی ﷺ نے معافی کو عزت کا سبب بتایا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(صحیح مسلم: 2588)



ترجمہ:
اللہ کسی بندے کو معاف کرنے کی وجہ سے عزت ہی میں اضافہ عطا فرماتا ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے معاف کر دیا تو میری عزت کم ہو جائے گی، لیکن نبی ﷺ نے بتایا کہ معافی انسان کی عزت بڑھاتی ہے۔


---

4. ابو بکرؓ کا عظیم واقعہ

حضرت عائشہؓ پر منافقین نے بہتان لگایا تو حضرت ابو بکرؓ کے ایک رشتہ دار مِسطحؓ بھی اس بات میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابو بکرؓ ان کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں مِسطح کی مدد نہیں کروں گا۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ... وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا
أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
(النور: 22)



جب حضرت ابو بکرؓ نے یہ آیت سنی تو فرمایا:

> بَلَى وَاللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي



"کیوں نہیں! اللہ کی قسم، میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرمائے۔"

پھر انہوں نے مِسطحؓ کی مدد دوبارہ شروع کر دی۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

اس واقعے کا بڑا سبق

جس شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہو، اسے معاف کرنا مشکل ہے۔ لیکن حضرت ابو بکرؓ نے اپنے دل سے کہا:

"اگر میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کرے، تو مجھے بھی اللہ کے بندے کو معاف کرنا چاہیے۔"


---

5. فتح مکہ کا عظیم منظر

رسول اللہ ﷺ کو مکہ والوں نے تکلیفیں دیں، آپ ﷺ کے صحابہؓ کو ستایا، انہیں اپنے گھروں اور وطن سے نکلنے پر مجبور کیا، جنگیں کیں، لیکن جب فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔

یہ انتقام کی طاقت نہیں بلکہ معافی کی عظمت تھی۔


---

6. ایک اہم حدیث: اصل پہلوان کون؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)



ترجمہ:
طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔


---

بیان کا خوبصورت اختتام

ہم سب چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری خطائیں معاف کرے، ہماری کوتاہیوں سے درگزر کرے اور قیامت کے دن ہمیں بخش دے۔

تو آج سے ایک عادت بنائیں:

جس نے دل دکھایا، اسے معاف کریں۔
جس نے غلطی کی، اسے معاف کریں۔
جس نے آپ کے خلاف بات کی، ممکن ہو تو درگزر کریں۔

کیونکہ:

> أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ



"کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟"

اور یاد رکھیں: معاف کرنا ظلم کو صحیح قرار دینا نہیں ہے۔ اگر کسی کا حق مارا گیا ہو تو حق واپس لینا جائز ہے؛ لیکن ذاتی بدلہ چھوڑ دینا اور معاف کر دینا بہت بڑی فضیلت ہے۔