حدیث 1
سوال 1: نیت کا مطلب کیا ہے؟ جواب: کسی عمل کو اللہ کی رضا کے لیے کرنے کا ارادہ۔سوال 2: کیا اچھا عمل بغیر اخلاص کے قبول ہوتا ہے؟ جواب: نہیں، اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھتے ہیں۔
سوال 3: اگر دو افراد ایک ہی عمل کریں لیکن نیت مختلف ہو تو کیا دونوں کا اجر برابر ہوگا؟ جواب: نہیں، اجر نیت کے مطابق ہوگا۔
سوال 4: اس حدیث کا مرکزی پیغام کیا ہے؟ جواب: ہر عمل کی قبولیت اور اجر نیت پر موقوف ہے۔
سوال 5: اس حدیث سے ہمیں اپنی زندگی میں کیا سبق ملتا ہے؟ جواب: ہر نیک عمل سے پہلے اپنی نیت خالص اللہ کے لیے کرنی چاہیے۔
مختصر زبانی سوالات
اعمال کس پر موقوف ہیں؟ جواب: نیتوں پر۔
ہجرت کی مثال کیوں دی گئی؟ جواب: نیت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے۔
اخلاص کسے کہتے ہیں؟ جواب: صرف اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا۔
اس حدیث کا پہلا لفظ کیا ہے؟ جواب: إِنَّمَا
اس حدیث کا مشہور نام کیا ہے؟ جواب: حدیثِ نیت (إنما الأعمال بالنيات)۔
حدیث 2
حدیث نمبر 2 (حدیثِ جبرائیل) سوال و جواب
سوال 1: اس حدیث کے راوی کون ہیں؟
جواب: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔
سوال 2: ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس کون آئے؟
جواب: حضرت جبرائیل علیہ السلام۔
سوال 3: حضرت جبرائیلؑ کس شکل میں آئے؟
جواب: ایک اجنبی آدمی کی شکل میں۔
سوال 4: ان کے کپڑوں کا رنگ کیسا تھا؟
جواب: بہت سفید۔
سوال 5: ان کے بال کیسے تھے؟
جواب: بہت سیاہ۔
سوال 6: حضرت جبرائیلؑ نے سب سے پہلے کس چیز کے بارے میں سوال کیا؟
جواب: اسلام کے بارے میں۔
سوال 7: اسلام کے کتنے ارکان اس حدیث میں بیان ہوئے؟ جواب: پانچ۔
سوال 8: اسلام کے پانچ ارکان کون سے ہیں؟
جواب: کلمہ، نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزے، استطاعت ہونے پر حج۔
سوال 9: اس کے بعد حضرت جبرائیلؑ نے کس چیز کے بارے میں پوچھا؟
جواب: ایمان کے بارے میں۔
سوال 10: ایمان کے ارکان کتنے ہیں؟
جواب: چھ۔
سوال 11: ایمان کے چھ ارکان کون سے ہیں؟
جواب: اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر (اچھی اور بری) پر ایمان۔
سوال 12: پھر حضرت جبرائیلؑ نے کس چیز کے بارے میں سوال کیا؟
جواب: احسان کے بارے میں۔
سوال 13: احسان کیا ہے؟
جواب: اللہ کی عبادت اس طرح کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت نہ ہو تو یہ یقین رکھنا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
سوال 14: قیامت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟ جواب: پوچھا گیا شخص پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔
سوال 15: قیامت کی دو نشانیاں کون سی بیان ہوئیں؟ جواب: لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی، اور ننگے پاؤں، ننگے بدن چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔
سوال 16: آخر میں رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ کون تھے؟ جواب: حضرت جبرائیل علیہ السلام۔
سوال 17: حضرت جبرائیلؑ کیوں آئے تھے؟ جواب: لوگوں کو ان کا دین سکھانے کے لیے۔
فہمِ حدیث کے سوالات
سوال 18: اس حدیث میں دین کے کتنے بنیادی درجے بیان ہوئے ہیں؟ جواب: تین: اسلام، ایمان اور احسان۔
سوال 19: اس حدیث کا مرکزی مضمون کیا ہے؟ جواب: دینِ اسلام کے بنیادی عقائد، اعمال اور احسان کی تعلیم۔
سوال 20: اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ جواب: دین کو صحیح طریقے سے سیکھنا، اس پر عمل کرنا اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا۔
یہ سوالات مدرسہ کے امتحان، زبانی سبق اور دہرائی کے لیے نہایت مفید ہیں۔
حدیث نمبر 4 — سوال و جواب
سوال 1: یہ حدیث کس صحابی سے مروی ہے؟
جواب: حضرت ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
سوال 2: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث کس سے روایت کی؟
جواب: رسول اللہ ﷺ سے۔
سوال 3: انسان کی پیدائش کے ابتدائی مرحلے کتنے دن کے ہوتے ہیں؟
جواب: چالیس دن تک نطفہ کی حالت میں رہتا ہے۔
سوال 4: چالیس دن کے بعد کیا مرحلہ آتا ہے؟
جواب: پھر وہ علقہ کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر مضغہ کی شکل اختیار کرتا ہے۔
سوال 5: فرشتہ کب بھیجا جاتا ہے؟
جواب: جب انسان کی تخلیق کے ابتدائی مراحل مکمل ہوتے ہیں، تو فرشتہ بھیجا جاتا ہے۔
سوال 6: فرشتہ کتنی چیزیں لکھتا ہے؟
جواب: چار چیزیں لکھتا ہے۔
سوال 7: وہ چار چیزیں کون سی ہیں؟
جواب:
انسان کا رزق
اس کی عمر
اس کا عمل
وہ سعید ہوگا یا شقی
سوال 8: سعید سے کیا مراد ہے؟
جواب: نیک بخت اور خوش نصیب۔
سوال 9: شقی سے کیا مراد ہے؟
جواب: بدبخت اور بد نصیب۔
سوال 10: حدیث میں جنت والوں کے عمل کے بارے میں کیا فرمایا گیا ہے؟
جواب: انسان بظاہر جنت والوں کے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جنت کے درمیان اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر تقدیر کے مطابق اس کا خاتمہ مختلف ہو سکتا ہے۔
سوال 11: اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، نیک اعمال کرتے رہنا اور اپنے خاتمے کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیے۔
سوال 12: اس حدیث میں کس اہم عقیدے کا بیان ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر پر ایمان کا بیان ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری و صحیح مسلم۔
No comments:
Post a Comment